ہمارا سفرِ عمرہ

(2026 / 1448 AH)

ہمارے خاندان کے لیے عمرے کی رہنمائی

اردو نسخے کی ابتدا: مدینہ منورہ کے دونوں مضامین اردو میں پڑھیں۔ باقی عنوانات ابھی انگریزی صفحات کھولیں گے۔

English version →

مدینہ منورہ

عمرے کے فضائل

فی الحال انگریزی میں

کعبہ کی رہنمائی

فی الحال انگریزی میں

احرام

فی الحال انگریزی میں

طواف

فی الحال انگریزی میں

زمزم

فی الحال انگریزی میں

سعی

فی الحال انگریزی میں

بال منڈوانا یا کٹوانا

فی الحال انگریزی میں

عمرے کے بعد

فی الحال انگریزی میں

بچوں کے سوالات اور سرگرمیاں

فی الحال انگریزی میں

دعائیں اور اذکار

فی الحال انگریزی میں
مرکزی صفحے پر واپس جائیں ←

مدینہ منورہ

ہمارے خاندانی سفر کی پہلی منزل۔

مرکزی صفحے پر واپس جائیں ←↑ اوپر جائیں
مدینہ منورہ واپس جائیں ←

نبی ﷺ کی ہم سے محبت

رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ آپ کو اپنی امت کی بہت فکر تھی، ان لوگوں کی بھی جو آپ کے بعد آنے والے تھے۔ آپ ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنا ہماری محبت، ادب اور اطاعت کا اظہار ہے۔

1. آپ ﷺ ہمارے لیے روئے

عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا: ”اے میرے رب! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ پس جو میری پیروی کرے وہ میرا ہے، اور جو میری نافرمانی کرے تو بے شک تو بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ اور عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول پڑھا: ”اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور روتے ہوئے عرض کیا: ”اے اللہ! میری امت، میری امت!“ اللہ عزوجل نے فرمایا: ”اے جبریل! محمد کے پاس جاؤ، اور تمہارا رب خوب جانتا ہے، پھر بھی ان سے پوچھو کہ انہیں کیا چیز رلا رہی ہے؟“ جبریل علیہ السلام آئے اور پوچھا۔ نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ آپ نے کیا کہا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جبریل کو یہ خوش خبری دے کر بھیجا: ”اے محمد! ہم آپ کو آپ کی امت کے بارے میں ضرور راضی کریں گے اور آپ کو غمگین نہیں کریں گے۔“

ماخذ: مسلم

2. آپ ﷺ ہر نماز میں ہمارے لیے دعا کرتے تھے

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب میں نے نبی ﷺ کو خوش دیکھا تو عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے لیے اللہ سے دعا کیجیے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! عائشہ کے اگلے اور پچھلے، پوشیدہ اور ظاہر گناہ بخش دے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا اتنا ہنسیں کہ ان کا سر ان کی گود میں جھک گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا میری دعا نے تمہیں خوش کر دیا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”آپ کی دعا مجھے خوش کیوں نہ کرے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ہر نماز میں اپنی امت کے لیے یہی دعا کرتا ہوں۔“

ماخذ: ابن حبان

3. آپ ﷺ نے عید کے دن بھی ہمیں یاد رکھا

ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دو جانور ذبح کیے۔ ان میں سے ایک ”آپ کی امت کے ان لوگوں کی طرف سے تھا جنہوں نے اللہ کی وحدانیت کی گواہی دی اور یہ گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے پیغام پہنچا دیا ہے۔“

ماخذ: ابن ماجہ

4. آپ ﷺ ہمیں دیکھنے کے مشتاق تھے

آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں!“ صحابہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میرے صحابہ ہو، لیکن میرے بھائی وہ ہیں جو ابھی دنیا میں نہیں آئے۔ میں حوض پر ان کا استقبال کروں گا۔“

ماخذ: نسائی

5. قیامت کے دن آپ ﷺ سے ملاقات

انس رضی اللہ عنہ: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ قیامت کے دن میری شفاعت فرمائیں گے؟

رسول اللہ ﷺ: میں ایسا کروں گا۔

انس: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو کہاں تلاش کروں؟

رسول اللہ ﷺ: پہلے مجھے صراط یعنی پل پر تلاش کرنا۔

انس: اگر میں آپ کو صراط پر نہ پاؤں تو؟

رسول اللہ ﷺ: مجھے میزان یعنی اعمال کے ترازو کے پاس تلاش کرنا۔

انس: اگر میں آپ کو میزان کے پاس بھی نہ پاؤں تو؟

رسول اللہ ﷺ: پھر مجھے حوض پر تلاش کرنا؛ میں ان تین جگہوں میں ضرور ملوں گا۔

ماخذ: ترمذی

6. آپ ﷺ نے اپنی خاص دعا ہمارے لیے محفوظ رکھی

قیامت کے دن دوسرے رسول ”میری جان، میری جان“ کہیں گے، جبکہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد و ثنا کریں گے جو اس موقع کے لیے خاص ہوگی۔ پھر آپ ﷺ کو مانگنے کی اجازت دی جائے گی اور آپ ﷺ عرض کریں گے: ”میری امت، میری امت۔“ دوسرے رسولوں نے اپنی خاص دعا دنیا میں قبول کروا لی، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعا ہمارے لیے محفوظ رکھی: آپ ﷺ قیامت کے دن ہماری شفاعت فرمائیں گے۔

ماخذ: بخاری

7. آپ ﷺ سے ہماری محبت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والوں میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو میرے بعد آئیں گے۔ ان میں سے ہر شخص یہ خواہش کرے گا کہ کاش وہ اپنے اہل و عیال اور مال کے بدلے مجھے ایک نظر دیکھ لے۔“

ماخذ: مسلم

آئیے آپ ﷺ پر زیادہ درود بھیجیں، آپ کی زندگی کے بارے میں سیکھیں اور آپ کی سنت کے مطابق زندگی گزاریں۔

بچو! نبی ﷺ اپنی امت سے محبت کرتے تھے۔ ہم بھی آپ ﷺ کی سنت اپنائیں اور دوسروں کے ساتھ مہربانی کریں۔

مدینہ منورہ واپس جائیں ←↑ اوپر جائیں
مدینہ منورہ واپس جائیں ←

کیا آپ نبی ﷺ کا تصور کر سکتے ہیں؟

  • گھنے، سیاہ اور لہردار بال۔
  • اوسط سے بلند قد۔
  • متناسب جسم۔
  • کشادہ کندھے۔
  • مضبوط ہاتھ اور پاؤں۔
  • لمبی اور متناسب انگلیاں۔
  • قدرے گول چہرہ۔
  • بڑی آنکھیں اور نہایت سیاہ پتلیاں۔
  • لمبی پلکیں۔
  • بھری ہوئی، گھنی داڑھی۔
  • سیدھا اور باوقار انداز۔
  • نرم اور خوشبودار جلد۔
  • روشن چہرہ۔
  • عظمت اور وقار۔

صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان

”میں نے رسول اللہ سے زیادہ خوب صورت کوئی چیز نہیں دیکھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آپ کے چہرے سے سورج چمک رہا ہو۔“

ماخذ: ترمذی

ایک تفصیلی وصف

جب ام معبد رضی اللہ عنہا کے شوہر نے ان سے حال ہی میں آنے والے مہمان کا حال پوچھا تو انہوں نے ہمارے پیارے نبی ﷺ کا وصف یوں بیان کیا:

”میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو نمایاں طور پر خوب صورت اور روشن چہرے والا تھا۔ اس کی بناوٹ متناسب تھی؛ نہ بڑا پیٹ اس میں عیب پیدا کرتا تھا، نہ غیر معمولی چھوٹا سر اسے بدنما بناتا تھا۔

وہ حسین اور متناسب تھا۔ اس کی آنکھیں نہایت سیاہ، پلکیں لمبی اور آواز میں قدرے بھاری پن تھا۔ گردن لمبی، داڑھی گھنی اور بھنویں ایک دوسرے کے بہت قریب تھیں۔

جب وہ خاموش ہوتا تو وقار اسے گھیر لیتا، اور جب بولتا تو اس کی شان اور عظمت نمایاں ہو جاتی۔ دور سے وہ سب سے حسین اور نمایاں نظر آتا، اور قریب سے سب سے خوب صورت اور شاندار۔

وہ عمدہ گفتگو کرنے والا تھا۔ اس کی بات نہ بہت کم ہوتی نہ بہت زیادہ؛ یوں معلوم ہوتا جیسے پروئے ہوئے موتی یکے بعد دیگرے گر رہے ہوں۔

اس کا قد درمیانہ تھا؛ نہ اتنا لمبا کہ دیکھنا ناگوار ہو، نہ اتنا چھوٹا کہ نظر انداز ہو جائے۔ وہ دو شاخوں کے درمیان ایک شاخ کی مانند تھا؛ ان تینوں میں سب سے حسین اور سب سے زیادہ معزز۔

اس کے ساتھی اس کی تعظیم کرتے تھے۔ جب وہ بولتا تو غور سے سنتے، اور جب حکم دیتا تو فوراً اس کی تعمیل کرتے۔ وہ اس کی خدمت کرتے اور اس کے گرد جمع رہتے۔ وہ نہ ترش رو تھا اور نہ کسی کو حقیر سمجھتا تھا۔“

ماخذ: حاکم

جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان

”میں نے رسول اللہ ﷺ کو چاندنی رات میں دیکھا، جب چاند پورا تھا اور آپ سرخ لباس پہنے ہوئے تھے۔ میں کبھی آپ کو دیکھتا اور کبھی چاند کو۔ اللہ کی قسم! میری نگاہ میں آپ چاند سے زیادہ حسین تھے!“

ماخذ: ترمذی

مدینہ منورہ واپس جائیں ←↑ اوپر جائیں